رام گڑھ (جھارکھنڈ) 2/ جولائی (ایس او نیوز) ریاست جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں گذشتہ روز ہوئے نام نہاد گو رکھشکوں کے غنڈوں کے ہاتھوں ایک تاجر کے قتل کے بعد علاقہ کے مسلمانوں بالخصوص مسلم خواتین کے اندر غصے کی لہر پائی جارہی ہے اور انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ وہ ایسے غنڈوں کے خلاف اب ہتھیار اُٹھائیں گے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خواتین نے کہا کہ وہ پولیس کے رویہ سے الجھن میں مبتلا ہیں اور ایسا مانتی ہیں کہ نام نہاد گوركھشک غنڈوں کو حکومت کا تحفظ حاصل ہے. جنہوں نے علیم الدین عرف اصغر علیکی گاڑی کو بیف لے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نذر آتش کردیا تھا اور ان کو بیف لے جانے کا الزام عائد کرکے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا. خیال رہے کہ بیف کے نام پر مسلمانوں پر حملوں اور پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کی یہ تازہ واردات تین روز قبل پیش آئی تھی۔
تازہ واردات کے بعد مرحوم علیم الدین کی بیوہ مریم خاتون نے بتایا کہ بھیڑ کے انصاف کا جواب بھیڑ کے ذریعے ہی دیا جائے گا. مریم کے گھر پر ان کو تسلی دینے والوں کی بھیڑ امنڈتی ہوئی نظر آئی جب نامہ نگار وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے ارد گرد تقریبا 70 خواتین جمع تھیں جو مختلف تنظیموں سے تعلق رکھتی تھیں. ان خواتین نے بھی مریم کی باتوں سے اتفاق کیا. علیم الدين کے قتل سے پورے گاؤں میں غم و غصہ کا ماحول ہے. ان کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو آسانی کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے. اس سے کچھ روز پہلے ہی گریڈھی میں ایک 55 سالہ مسلم ڈیری ملک کے مالک کے گھر کو مبینہ گوركشكوں کے غنڈوں نے آگ کے حوالے کر دیا تھا. اس پر بھی گائے کو مارنے کا الزام لگایا گیا تھا.
تعزیت کے لئے آئی ، مومنا خاتون نے الزام لگایا کہ ریاست میں مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے سے ہم خوف کے ماحول میں جینے پر مجبور ہیں. ہمیں اب یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ گھرسے نکلے ہوئے ہمارے مرد واپس گھر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ تازہ وارداتوں کے تعلق سے مومنا نے بتایا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ کچھ تنظیموں کی جانب سے جان بوجھ کر کی جانے والی وارداتیں ہیں اور اسے انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اگر حکومت ایسے واقعات پر قدم نہیں اٹھاتی ہے تو ہمیں ہی اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے ہتھیار اُٹھانا پڑے گا۔
یہاں کے لوگوں میں انتظامیہ کے خلاف بھی بے حد غصہ پایا جارہا ہے جو تشدد کے اس طرح کے واقعات کے روک تھام کے لئے کسی طرح کا قدم نہیں اُٹھارہے ہیں اور تشدد کے دوران خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں۔
علیم الدین کے مکان پر تعزیت کے لئے آئے ہوئی ایک اور خاتو ن عابدہ خاتون نے نامہ نگار سے پوچھا کہ آخر ایک کمیونٹی کے لوگوں کو ہمارے کھانے پینے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے، ہم تو ان کی باورچی خانے میں تاك جھانککرنے نہیں جاتے. اس موقع پر گائوں کے بزرگ حضرات نوجوانوں اور خواتین کو صبر کی تلقین کررہے تھے اور مسلم اکثریت والے اس دیہات میں جہاں 350 مکانات ہیں، فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھاوانہ دینے کی بات کررہے تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بھولا خان نے بتایا کہ ہم امن پسند شہری ہیں ہم قانون کو اپنے ہاتھ لینا نہیں چاہتے، بھولا خان انتظامیہ اور دیہاتیوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق گذشتہ سات سالوں میں بیف کے نام پر الگ الگ واقعات میں اور ملک کے مختلف جگہوں پرجملہ 29 لوگوں کا قتل کیا گیا ہے، جس میں 25 مسلمان ہیں۔رپورٹ کے مطابق 97 فیصدی واقعات مئی 2014 کو نریندر مودی حکومت بننے کے بعد پیش آئے ہیں۔
نریندر مودی کے نام کھلی چٹھی
65 ریٹائرڈ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران نے نام نہاد گوركشكو پر لگام کسنے اور قانون کا راج قائم کرنے کے لئے نریندر مودی حکومت کو کھلا خط لکھا ہے. اس خط پر دستخط کرنے والوں میں بھاسکر گھوش، ہرش مندر اور وجاہت حبیب اللہ بھی شامل ہیں. سابق نوکرشاہوں کا کہنا ہے کہ گوركھشک پورے حفاظتی بندوبست کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں ریاستی انتظامیہ سے ترغیب مل رہی ہے. سابق حکام نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی ہے کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں بھی عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے. انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور جے این یو میں مساوات، سماجی انصاف اور آزادی کے مسئلے اٹھانے والوں پر انتظامیہ کے زیرسرپرستی حملے کرائے جا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ ملک میں مشتعل شدت پسندی کے حالات بنتے جا رہے ہیں، جس میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر آپ حکومت کے ساتھ نہیں ہیں تو، آپ ملک مخالف ہیں. اس سے آئین اور قانون کا راج خطرے میں نظر آنے لگا ہے.